ویب سائٹ زیر تعمیر ہے کسی بھی پریشانی کی صورت میں معزرت
Welcome to The Best Islamic Education Website by Thareek e Tahaffuz e Ahlesunnat Pakistan | Spreading The teachings of Qur'an O Sunnah in Social Media |.....Thanks for Visit..... Please help to spread The light of education....Do you want to Publish Your Article?? in This Website if you want to write your Articles??? Write your full name and please send us....Help me to make this website better with your support Jazak'Allah All Post & Articles are copyright © thareeketahaffuzeahlesunnat.blogspot.com
smnaeem لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
smnaeem لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

آزادی کا 71 سال مگر ابھی ایک قرض باقی ہے۔۔۔!



یوم آزادی قریب ہے ہر سمت جشن کا سما ہے ہر فرد اپنے
اپنے مزاج کے مطابق وطن سے محبت کا اظہار کر رہا ہے میں نے سوچا کہ کچھ میں بھی آپ احباب کے گوش گزار کروں۔
 میرے دوستوں اس پاکستان کی تاریخ بڑی دردناک ہے, آج ہمارے نوجوان اگر اپنے وطن کی تاریخ سے واقف ہوتے یا اسکی حساسیت کو سمجھے تو چودہ اگست کو وہ سڑکوں پر شور شرابہ کرتے نہ پھرتے, بلکہ اللہ کے حضور سجدہ ریز نظر آتے.
 ہزاروں علماء و مشائخ اور لاکھوں مسلمانوں کی جہد مسلسل
کا صلہ ہے پاکستان، جتنا کام ان کا تھا وہ تو کر گئے مگر 71 سال بعد بھی ان شھیدوں کا فرض ہم پہ باقی ہے جن بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں اغیار کے ہاتھوں پامال ہوئیں ان کا قرض باقی ہے،
جو مہاجرین اپنی قیمتی جائیدادیں چھوڑ کر یہاں چھونپڑیوں میں آ کر آباد ہوں اُن مہاجرین کی عرض باقی ہے

عزیزن من مجھے اپنے گزرے ہوئے لیڈروں پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ وہ پاکستان بننے کے بعد اس کے حقیقی مقصد کو شاید بھول سے گئے مگر اُن سے بھی شکوہ کیسا اصل کام تو ہی کر گئے ہیں فقط اتنا ضرور کہوں گا کہ
*حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے*
*جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے*
الغرض اے میری قوم کے نوجوانوں سنو۔۔۔!
اے میری ماءوں بہنوں سنو۔۔۔!
اے 70 ، 70 سال سے پاک سر زمین شادباد سننے والے یا پڑھنے والے بزرگوں سنو۔۔۔!

*اس لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والے ملک میں*
*محمد رسول اللہ کا قانون لانا باقی ہے*
اغیار کے ہاتھوں بکنے والے حکمران ایسے ہونے نہیں دیں گے مگر ہم ایک دن اس ملک میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وسلم یعنی مفکرِ اسلام شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر کر کہ رہیں گے قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش کی تکمیل کر کہ رہیں گے
اقبال تو کہے گئے تھےکہ
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
اب میں اس سوچ میں ہوں کہ نوجوانوں میں عقابی روح بیدار کرنے والا کون آئے گا مگر یقینِ کامل ہے، رستہ ہیں پُر خار مگر یہ منزل ہم پائیں گے۔

ڈرائیں گی بھلا کیسے یہ راستہ کی سختیاں
ہم عظمتِ رسول کے پاسباں ہیں پاسباں

یہ نام نہاد آزاد میڈیا جو اسلام والوں کا بائکاٹ کرتا ہے اور گستاخ بلاگرز کی حمایت کرتا ہے یا سیاستدانوں کی دم بنا رہتا ہے انھیں اور انکے ناجائر فادرز اور اغیار کے اشاروں پر چلنے والے حکمرانوں کو بھی ایک پیغام دینا چاہوں گا کہ

تمھارا ظلم ہماری لگن بڑھاتا ہے
کیونکہ۔
جو لوہا چوٹ کھاتا ہے وہی تلوار بنتا ہے

اور سنو۔۔۔۔!

لشکر بھی تمھارا ہتیار بھی تمھارا
تم جھوٹ کو سچ لکھ دو آخبار بھی تمھارا

لیکن یاد رکھنا

ان اندھیروں کا جگر چیر کے اک نور آئے گا
تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا

تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ آباد
پاکستان پائندہ آباد

Like us My Page For More Updates

جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

آیتِ قرآنی اور اقبال کے اشعار


ہمارے ملک میں آزادی کے نام پر بے حیائی لا دینیت اور گستاخانہ قسم کی سوچ پھیلانے والے چند یورپی لنڈا بازار سے تعلیم یافتہ افراد ہمارے نوجوانوں کو آزادی کے دھوکہ سے اسلام اور نظریہِ پاکستان سے دور کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بات تو آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان صرف نظریہ اسلامی یعنی دو قومی نظریہ کی وجہ سے وجود میں آیا عزیزانِ محترم اب ہماری غفلت یہ ہم 70 سال گزر جانے کے باوجود اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی قانون کا نفاز نہ کر سکے مگر اللہ کے فضل سے پاکستان اب تک اسی لیے سلامت ہے کہ نظام اور قانون میں نہ سہی مگر اللہ اور اسکے رسول کا قانون ہماری قوم کے قلوب و اذہان میں موجود ہے اب دشمنوں نے طریقہ واردات بھی اسی طرح اپنا لیا ہے اب وہ ہماری قوم کے نوجوان طبقہ سے آزادی کی لالچ دے کر اور کبھی انسانیت کے جھوٹے پاٹ پڑھا کر ان کے دل سے اسلامی نظام کی اہمیت اور حب الوطنی کے اک نہ رکنے والے سلسلہ کو توڑنا چاہتا ہے مثلاً کبھی وہ نام نہاد آزادی کے نام پر عورتوں کے پردے پر تنقید کرتا ہے اور فحاشی و عریانی کو عام کر تا ہے جس کے نتیجہ میں زیادتیوں کے کیس سامنے آتے ہیں، 
کبھی وہ آزادی رائے کے نام پر اسلام دشمنوں کو اسلام دشمنی کی آزادی دلواتا ہے، 
کبھی جھوٹے الزامات لگا کر پاک فوج کو عوام سے لڑوانے کی کوشش کرتا ہے،
ابھی کچھ دنوں پہلے ہی اسی طرح کی ایک نامنہاد آزادی کی تحریک چلانے والی خاتون کے ساتھ انکے اپنے لوگوں نے ہی زیادتی کی وہ کسی بھی مذہب کو نہیں مانتیں تھی مگر پھر بھی انھیں اسلامی طریقہ سے دفن کیا گیا، وہ کسی نظام اور شریعت کو نہیں مانتیں تھیں مگر پھر بھی ایک بازاری مولوی نے پتہ نہیں کس جزبہ کے تحت اسلامی طرز سے اس خاتون کا جنازہ بھی پڑھا،
الغرض اس عورت کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور کمال یہ کہ اس پر کسی آزاد ذہن والے نے آواز تک نہ اُٹھائی کہ اس بچاری آزاد عورت کو زبردستی اسلام کے کھاتے میں کیوں ڈال رہے ہو۔۔۔۔
معلوم ہوا کہ یہ آزادی رٹ صرف 
دینی لحاز سے کمزور لوگوں کو اسلام سے دور کرنے کے لیے ہے
باقی وہ خود(لبرلز)اپنے مذہب یعنی الحاد کے بھی پاسدار نہیں! 

مسلمانوں! خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاؤ اور اس نام نہاد آزاد طبقہ سے ہوشیار ہو جاؤ ۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے صحیح رستہ پر چلو اور انکی باتوں میں نہ آؤ جو خود آپنے اقوال میں مختلف اور افعال میں مختلف ہیں کائنات کی ہر چیز ایک نظام و قانون کے تحت چل رہی ہے اور بے شک سب سے بہترین نظام بس اسلام کا ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے
ترجمہ کنزالایمان:
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا بُرا حساب ہو گا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ، اور کیا ہی بُرا بچھونا (سورہ ابراہیم : 18)

اور مفکرِ ملت شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس عجب آزادی پر پُر خطر تشویش  کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں
اس قوم میں ہے شوخیِ اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے پسندیدہ دین اسلام پر اور اسلامی نظام پر عملدرآمد کرنے والا بنائےاور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔۔۔آمین
:از
خادمِ اہلسنّت خاک پائے علماءِحق

محمد نعیم قادری

قوم مذہب سے ہے, مذہب جونہیں,تم بھی نہیں


قوم مذہب سے ہے,مذہب جو نہیں,تم بھی نہیں

قوم عام گروہ اور جماعت کو کہتے ہیں اور ایک نسب اور وطن کے لوگوں کو بھی کہتے ہیں جن کو پیغمبروں سے تعلق تھا...لیکن ہماری زبان میں قوم کا اطلاق اُس جماعت پر ہوتا ہے جس کا تعلق کسی ایک دین یا مذہب سے ہو- چناچہ پاکستان خود ہندو اور مسلم دو قوموں کی تفریق سے وجود میں آیا-ملّت کا تعلق بھی پیغمبروں سے ہے جن کے ذریعے دستورِ الٰہی کا نفاذ ہوا...

(مِلّٙةٙ اٙ بِیْکُمْ اِ بْرٰ ھِیْمٙ  (ط

ترجمہ: یہ تمھارے باپ ابراھیم کی ملت ہے.

سورة الحج آیت نمبر 78

چناچہ ملت و قوم وطن سے نہیں بلکہ دین سے بنتی ہے....
اسی لیے مفکرِ ملت علامہ اقبال فرماتے ہیں

قوم مذہب سے ہے, مذہب جونہیں,تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں,محفلِ انجم بھی نہیں

اسی لیے مسلمانوں اپنے دین سے آشنا رہو اور ملک و ملت کے دشموں کو پہچانو اسلام اور اہل اسلام کی سر بلندی و عروج کے لیے کوششیں کرتے رہو.
----------------------------------------------
💠💠💠از ✍💠💠💠
خادمِ اہلسنت خاک پائے علماءِ حق
💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠

کلمہ سے فتح ہونے والا شھر___بہترین واقعہ ضرور پڑھیں


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے کسی ایسے شہر کو سنا کہ جس کا ایک کنارہ خشکی پر ہے اور ایک کنارہ سمندر میں ہے؟ تو لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ ستر ہزار کا لشکر حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوگا اس شہر پر جہاد کرے گا اور جب اس شہر کے پاس وہ لشکر پہنچے گا نہ تلوار سے جنگ کرے گا نہ کوئی تیر چلائے گا بلکہ صرف لا الٰہ الااللہ کہے دے گا تو شہر کا ایک کنارہ جو سمندر کی جانب ہوگا گر پڑے گا پھر دوسری مرتبہ لا الٰہ الااللہ کہے گا تو شہر کا دوسرا کنارہ گر پڑے گا پھر تیسری مرتبہ لا الٰہ الااللہ کہے گا تو شہر فتح ہوجائے گا اور یہ لشکر شہر میں داخل ہو کر مالِ غنیمت حاصل کرے گا اور یہ لوگ اس مالِ غنیمت کو تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اچانک کوئی شور مچانے والا یہ کہے گا دجال نکل پڑا تو یہ لشکر سب کچھ چھوڑ کر شہر سے واپس ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
(مشکوٰة ،ج 2،ص 468بحوالہ مسلم)

: تبصرہ

<1>
 شارحین حدیث نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ روم کا ایک شہر ہے اور بعض علماء کا بیان ہے کہ یہ شہر قُسطنطُنیہ ہے. اور یہ لشکر ملک شام کا ہوگا جو حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد ہیں اور قرب قیامت میں یہ شہر فتح ہوگا... اور اس کے بعد ہی دجال نکلے گا چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جنگ عظیم اور قسطنطنیہ کا فتح ہونااور دجال کا نکلنا یہ تینوں واقعات سات مہینے کے اندر اندر رونماہوں گے
(مشکٰوة ,ج2,ص: 468, بحوالہ ترمذی و ابو داود)
<2>
یہ واقعہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ بھی ہے کہ آپ نے غیب کی خبر دی اور ستر ہزار شامی لشکر کی کرامت بھی ہے کہ ان کے صرف کلمہ پڑھ دینے سے شہر فتح ہو جائے گا...
<3>
اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت تک ہر دور میں صاحبانِ کرامت ہوتے رہیں گے...

پیشکش: تحریک تحفظ اھلسنت پاکستان

مسلمانوں کی دو عیدیں

مسلمانوں کی دو عیدیں

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور کو معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود کرتے ہیں،خوشی مناتے ہیں اس پر حضور نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا ان دنوں میں ہم لوگ زمانہ جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کو ان سے بہتر دنوں میں تبدیل کردیا ہے ان میں سے ایک دن عید الفطر اور دوسرا دن عید الاضحٰی ہے۔۔۔

📚"سنن ابی داود" کتاب الصلاة،باب صلاة العیدین،حدیث ١١٣٤،ج:١،ص:٤١٨۔۔۔۔
📚
مشکاة المصابیح" کتاب الصلاة، باب" الصلاة العیدین، الحدیث:١٤٣٩،ج:١، ص:٢٨٨۔۔




تحریک تحفظ اہلسنت پاکستان



اگر آپ بھی اپنے لکھے ہوئے مضامین ہماری ویب سائٹ پر شامل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر یہاں سینڈ کریں